مینگلور:8/جولائی (ایس اؤنیوز) شرپسندوں کے قاتلانہ حملہ کا شکار ہونے کے بعد جمعہ کو اسپتال میں فوت ہونے والے آرایس ایس کارکن شرتھ مڈیوال کی نعش مینگلور کے ایک پرائیویٹ اسپتال سے جلوس کی شکل میں جیسے ہی بی سی روڈ کے قریب پہنچی کئی کمبا میں پتھراؤ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق بی سی روڈ پر شرتھ کی نعش کو سنگھ پریوار کارکنان ایمبولنس سے اتارنے کی کوشش کی تو اس دوران پولس اور کارکنان کے درمیان لفظی جھڑپ شروع ہوگئی، جب حالات خراب ہونے لگے تو پولس کو لاٹھی چارج کا سہارا لینا پڑا، بتایا گیا ہے کہ اس دوران پتھراؤ کی واردات پیش آئی۔ پتھراؤ سے ایک فرد شدید زخمی ہونے کی بھی خبر ہے ، جسے اسپتال میں داخل کیا گیا ہے ، واقعے میں3کار وں کو اور ایک بس کو نقصان پہنچا ہے ، معاملے کو لے کر کئی لوگوں کو پولس نے اپنی تحویل میں لیا ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق شرتھ کی نعش کو مینگلور کے ایک نجی اسپتال سے صبح 10بجے ریلی کی شکل میں اسکے جائے مقام سجیپ مونور کی طرف لے جایا جارہا تھا ۔ بی سی روڈ سے گزرنے کے دوران مقامی بی جے پی دفتر کے سامنے والی قومی شاہراہ پر جمع سیکڑوں لوگوں میں سے آریس ایس کے کارکنان نے شرتھ کے آخری دیدار کامطالبہ کیا۔ جب کارکنان نعش کو ایمبولنس سے باہرنکالنے کی کوشش تو پولس نے انہیں روک لیا اسی دوران لفظی جھڑپ شروع ہوگئی جو بعد میں بڑھتی چلی گئی۔
جب دکانوں ، عمارتوں اور سواریوں پر بھی پتھراؤ شروع ہوگیاتو پولس نے لاٹھی چارج شروع کردیا۔جبکہ اس دوران کئی لوگوں کو پولس نے اپنی تحویل میں لیا۔ معاملے میں کئی ایک کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔
بنٹوال پولس تھانہ کا گھیراؤ: پتھراؤ کے الزام میں جب پولس نے کچھ لوگوں کو اپنی تحویل میں لیا تو سینکڑوں سنگھ پریوار کے کارکنان نے بنٹوال پولس تھانہ کا گھیراؤ کرتے ہوئے گرفتار شدگان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
فی الوقت بنٹوال اور بی سی روڈ پر حالات کشیدہ بتائے گئے ہیں البتہ پولس کی سخت سیکوریٹی لگائی گئی ہے ۔